(۳۸۱۹۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَکَی النَّاسُ ، فَقَامَ عُمَرُ فِی الْمَسْجِدِ خَطِیبًا ، فَقَالَ : لاَ أَسْمَعُ أَحَدًا یَزْعُمُ أَنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ ، وَلَکِنْ أَرْسَلَ إِلَیْہِ رَبُّہُ ، کَمَا أَرْسَلَ إِلَی مُوسَی رَبُّہُ ، فَقَدْ أَرْسَلَ اللَّہُ إِلَی مُوسَی ، فَلَبِثَ عَنْ قَوْمِہِ أَرْبَعِینَ لَیْلَۃً ، وَاللہِ إِنِّی لأَرْجُوَ أَنْ تُقْطَعَ أَیْدِی رِجَالٍ وَأَرْجُلِہِمْ یَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَاتَ۔
(٣٨١٩١) حضرت انس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو لوگ رونے لگے۔ اس پر حضرت عمر مسجد میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں کسی آدمی کے بارے میں نہ سنوں کہ اس کا یہ گمان ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات پا گئے ہیں۔ بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ان کے پروردگار نے ایسی ہی حالت بھیجی ہے جیسا کہ موسیٰ کی طرف ان کے پروردگار نے بھیجی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی طرف پیغام بھیجا تھا تو وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک (دور) ٹھہرے رہے۔ خدا کی قسم ! مجھے تو اس بات کی پختہ امید ہے کہ ایسے لوگوں کے ہاتھ ، پاؤں کٹ جائیں گے جن کا یہ خیال ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر موت واقع ہوگئی ہے۔