(۳۸۱۹۳) حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَیْنَ أَکُونُ غَدًا ؟ قَالَوا : عَنْدَ فُلاَنَۃَ ، قَالَ : أَیْنَ أَکُونُ بَعْدَ غَدٍ ؟ قَالَوا : عَنْدَ فُلاَنَۃَ ، فَعَرَفْنَ أَزْوَاجُہُ أَنَّہُ إِنَّمَا یُرِیدُ عَائِشَۃَ ، فَقُلْنَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، قَدْ وَہَبْنَا أَیَّامَنَا لأُخْتِنَا عَائِشَۃَ۔ (ابن سعد ۲۳۳)
(٣٨١٩٣) حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہں ج کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طبیعت بوجھل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا۔ ” میں کل کہاں ہوں گا۔ ؟ “ لوگوں نے کہا : فلانی زوجہ کے ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (دوبارہ) پوچھا۔ میں اس کے بعد کہاں ہوں گا ؟ “ لوگوں نے کہا ۔ فلانی زوجہ کے پاس۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات نے معلوم کرلیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ حضرت عائشہ کا ہے۔ تو تمام ازواج نے کہا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے اپنی باریاں اپنی بہن عائشہ کو ہدیہ کردی ہیں۔