(۳۸۲۰۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ أَسْلَمَ ؛ أَنَّہُ حِینَ بُویِعَ لأَبِی بَکْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، کَانَ عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ یَدْخُلاَنِ عَلَی فَاطِمَۃَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَیُشَاوِرُونَہَا وَیَرْتَجِعُونَ فِی أَمْرِہِمْ ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ حَتَّی دَخَلَ عَلَی فَاطِمَۃَ ، فَقَالَ : یَا بِنْتَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاللہِ مَا مِنَ الْخَلْقِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَیْنَا مِنْ أَبِیک ، وَمَا مِنْ أَحَدٍ أَحَبَّ إِلَیْنَا بَعْدَ أَبِیک مِنْک ، وَأَیْمُ اللہِ ، مَا ذَاکَ بِمَانِعِیَّ إِنِ اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ النَّفَرُ عِنْدَکِ ، أَنْ آمُرَ بِہِمْ أَنْ یُحَرَّقَ عَلَیْہِمُ الْبَیْتُ۔
قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ جَاؤُوہَا ، فَقَالَتْ : تَعْلَمُونَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ جَائَنِی ، وَقَدْ حَلَفَ بِاللہِ لَئِنْ عُدْتُمْ لَیُحَرِّقَنَّ عَلَیْکُمُ الْبَیْتَ ، وَأَیْمُ اللہِ ، لَیَمْضِیَنَّ لِمَا حَلَفَ عَلَیْہِ ، فَانْصَرِفُوا رَاشِدِینَ ، فَرُوْا رَأْیَکُمْ ، وَلاَ تَرْجِعُوا إِلَیَّ ، فَانْصَرَفُوا عنہا ، فَلَمْ یَرْجِعُوا إِلَیْہَا ، حَتَّی بَایَعُوا لأَبِی بَکْرٍ۔
(٣٨٢٠٠) حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی وفات) کے بعد جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو حضرت علی اور حضرت زبیر ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی حضرت فاطمہ کے ہاں آنے جانے لگے اور ان سے مشاورت کرنے لگے اور اپنے معاملہ (خلافت) میں ان سے تقاضا کرنے لگے۔ پس جب یہ بات حضرت عمر بن خطاب کو پہنچی تو آپ نکل کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ حضرت فاطمہ کے ہاں داخل ہوئے اور فرمایا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی ! خدا کی قسم ! تمام مخلوق میں ہمیں تمہارے والد سے زیادہ کوئی محبوب نہیں ۔ اور آپ کے بعد والد کے بعد ہمیں آپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خدا کی قسم ! (لیکن) اگر یہ آپ کے پاس (دوبارہ) جمع ہوئے تو مجھے یہ (محبت والی) بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ میں لوگوں کو حکم دوں اور ان تمام (گھر میں موجود) افراد پر گھر کو جلا دیا جائے۔ راوی کہتے ہیں : پس جب حضرت عمر باہر چلے گئے تو یہ حضرات بی بی فاطمہ کے پاس آئے۔ حضرت فاطمہ نے فرمایا : تمہیں معلوم ہے کہ حضرت عمر میرے پاس آئے تھے۔ اور انھوں نے خدا کی قسم کھا کر کہا ہے کہ اگر تم لوگ دوبارہ جمع ہوئے تو وہ ضرور بالضرور تمہیں گھر میں جلا دیں گے۔ اور خدا کی قسم ! حضرت عمر نے جو کہا ہے وہ اس کو ضرور پورا کریں گے۔ پس تم لوگ اچھی حالت میں ہی واپس چلے جاؤ۔ اور اپنی رائے کو دیکھ لو۔ میری طرف واپس نہ آنا چنانچہ لوگ وہاں سے واپس ہوگئے اور جب تک ان لوگوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت نہیں کی یہ (فاطمہ کے پاس) واپس نہیں آئے۔