(۳۸۲۲۸) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّ عُمَرَ حِینَ طُعِنَ جَائَ النَّاسُ یُثْنُونَ عَلَیْہِ ، وَیَدْعُونَ لَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَحِمَہُ اللہُ : أَبِالإِمَارَۃِ تُزَکُّونَنِی ؟ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُبِضَ وَہُوَ عَنِّی رَاضٍ ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَکْرٍ فَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ ، فَتُوُفِّیَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا سَامِعٌ مُطِیعٌ ، وَمَا أَصْبَحْتُ أَخَافُ عَلَی نَفْسِی إِلاَّ إِمَارَتَکُمْ ۔
(٣٨٢٢٨) حضرت قاسم سے روایت ہے۔ کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو لوگ (آپ کے پاس) آ کر آپ کی تعریف کرنے لگے اور آپ کے لیے دعا کرنے لگے تو حضرت عمر نے ان سے کہا۔ کیا تم لوگ خلافت کی بنیاد پر مجھے پاکیزہ سمجھ رہے ہو ؟ تحقیق میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختاکر کی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے خوش تھے پھر میں نے حضرت ابوبکر کی صحبت اختیار کی اور میں نے آپ کا حکم سُنا اور مانا پھر آپ کی وفات بھی اس حالت میں ہوئی کہ میں آپ کی بات سننے اور ماننے والا تھا۔ اور مجھے تو اپنے آپ پر صرف تمہاری امارت ہی کا خوف ہے۔