(۳۸۲۳۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا لَیْلَی الْکِنْدِیَّ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُثْمَانَ اطَّلَعَ إِلَی النَّاسِ وَہُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، لاَ تَقْتُلُونِی وَاسْتَعْتِبُونِی ، فَوَاللہِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِی لاَ تُقَاتِلُونَ جَمِیعًا أَبَدًا ، وَلاَ تُجَاہِدُونَ عَدُوًّا أَبَدًا ، وَلَتَخْتَلِفُنَّ حَتَّی تَصِیرُوا ہَکَذَا ، وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہِ، {وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ}۔ قَالَ : وَأَرْسَلَ إِلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَلاَمٍ فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : الْکَفَّ الْکَفَّ ، فَإِنَّہُ أَبْلَغُ لَک فِی الْحُجَّۃِ ، فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَقَتَلُوہُ۔
(٣٨٢٣٥) حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انھوں نے لوگوں کی طرف جھانکا ۔۔۔ جبکہ وہ محصور تھے۔۔۔ اور فرمایا ۔۔۔ اے لوگو ! مجھے قتل نہ کرو بلکہ تم مجھ سے رضا مندی اور خوشنودی چاہو۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر کبھی تم لوگ اکٹھے ہو کر جہاد نہیں کرو گے۔ اور کبھی دشمن کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑ نہیں سکو گے۔ اور تم اس حالت میں پیچھے رہ جاؤ گے کہ تم یوں ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان نے اپنی انگلیاں، انگلیوں میں داخل کیں۔ اور آیت پڑھی { وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ }
راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف قاصد بھیج کر ان سے (اس معاملہ) میں پوچھا۔ انھوں نے فرمایا۔ رُکے رہو۔ رُکے رہو۔ کیونکہ یہ رویہ تمہارے حق میں خوب حجت ہوگا۔ چنانچہ یہ باغی لوگ حضرت عثمان کے پاس داخل ہوئے اور انھیں قتل کردیا۔