hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38237

.

ابن أبي شيبة

38237
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ یَوْمَ الدَّارِ: اُخْرُجْ فَقَاتِلْہُمْ ، فَإِنَّ مَعَک مَنْ قَدْ نَصَرَ اللَّہُ بِأَقَلَّ مِنْہُ ، وَاللہِ ، إِنَّ قِتَالَہُمْ لَحَلاَلٌ، قَالَ: فَأَبَی ، وَقَالَ: مَنْ کَانَ لِی عَلَیْہِ سَمْعٌ وَطَاعَۃٌ ، فَلِیُطِعْ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ ، وَکَانَ أَمَّرَہُ یَوْمَئِذٍ عَلَی الدَّارِ ، وَکَانَ یَوْمَئِذٍ صَائِمًا۔
(٣٨٢٣٨) حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں۔ میں نے محاصرہ کے دن حضرت عثمان سے کہا۔ آپ باہر آئیں اور ان لوگوں سے لڑائی کریں۔ کیونکہ آپ کے ہمراہ (آج اتنے) لوگ ہیں کہ جن سے کم تعداد کی اللہ پاک نے مدد کی تھی۔ اور خدا کی قسم ! ان لوگوں سے لڑنا حلال ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے انکار فرمایا اور حکم دیا ۔ جو آدمی خود میری سمع وطاعت کو واجب سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے ۔ حضرت عثمان نے اس (محاصرے کے) دن ان کو گھر میں امیر مقرر فرمایا تھا اور حضرت عثمان اس (محاصرہ کے) دن روزہ کی حالت میں تھے۔