(۳۸۲۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ بَایَعَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ أَبُو سِنَانٍ الأَسَدِیُّ وَہْبٌ ، أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک ، قَالَ : عَلاَمَ تُبَایِعُنِی ؟ قَالَ : عَلَی مَا فِی نَفْسِکَ ، قَالَ : فَبَایَعَہُ ، قَالَ : وَأَتَاہُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : أُبَایِعُک عَلَی مَا بَایَعَک عَلَیْہِ أَبُو سِنَانٍ ، فَبَایَعَہُ ، ثُمَّ بَایَعَہُ النَّاسُ۔
(٣٨٢٦٢) حضرت عامر سے روایت ہے کہ درخت کے نیچے سب سے پہلے ابو سنان اسدی وھب نے بیعت کی تھی۔ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا ” تم کس بات پر میری بیعت کرتے ہو ؟ “ ابو سنان نے کہا۔ اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بیعت کیا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر ایک اور آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا ۔ جس بات پر ابو سنان نے بیعت کی ہے میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پس اس نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ۔ پھر باقی لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی۔