(۳۸۲۷۵) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ السَّدُوسِیِّ ، عَنْ أَبِی مُوسَی ، قَالَ : خَطَبَنَا ، فَقَالَ : أَلاَ وَإِنَّ مِنْ وَرَائِکُمْ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا مُؤْمِنًا وَیُمْسِی کَافِرًا ، وَیُصْبِحُ کَافِرًا وَیُمْسِی مُؤْمِنًا ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، وَالْمَاشِی خَیْرٌ مِنَ الرَّاکِبِ ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : کُونُوا أَحْلاَسَ الْبُیُوتِ۔ (ابوداؤد ۴۲۶۱۔ احمد ۴۰۸)
(٣٨٢٧٥) حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے فرمایا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا پس فرمایا خبردار ہو یقیناً تمہارے سامنے فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہوجانا گھروں کے ٹاٹ۔