hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38283

.

ابن أبي شيبة

38283
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۲۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، وَابْنُ نُمَیْرٍ وَحُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ، قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَیُّکُمْ یَحْفَظُ حَدِیثَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْفِتْنَۃِ کَمَا قَالَ ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، قَالَ : فَقَالَ : إنَّک لَجَرِیئٌ ، وَکَیْفَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : فِتْنَۃُ الرَّجُلِ فِی أَہْلِہِ وَمَالِہِ وَنَفْسِہِ وَجَارِہِ یُکَفِّرُہَا الصِّیَامُ وَالصَّدَقَۃُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّہْیُ ، عَنِ الْمُنْکَرِ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَیْسَ ہَذَا أُرِیدُ ، إنَّمَا أُرِیدُ الَّتِی تَمُوجُ کَمَوْجِ الْبَحْرِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَالَک وَلَہَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّ بَیْنَکَ وَبَیْنَہَا بَابًا مُغْلَقًا ، قَالَ : فَیُکْسَرُ الْبَابُ ، أَمْ یُفْتَحُ ، قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، بَلْ یُکْسَرُ ، قَالَ : ذَاکَ أَحْرَی أَنْ لاَ یُغْلَقَ أَبَدًا ، قَالَ : قُلْنَا لِحُذَیْفَۃَ : ہَلْ کَانَ عُمَرُ یَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ ، قَالَ : نَعَمْ ، کَمَا أَعْلَمُ ، أَنَّ غَدًا دُونَ اللَّیْلَۃِ، إنِّی حَدَّثْتہ حَدِیثًا لَیْسَ بِالأَغَالِیطِ، قَالَ: فَہِبْنَا حُذَیْفَۃَ أَنْ نَسْأَلَہُ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْہُ ، فَسَأَلَہُ ، فَقَالَ : عُمَرُ۔ (مسلم ۲۲۱۸۔ ابن ماجہ ۳۹۵۵)
(٣٨٢٨٤) حضرت شقیق حضرت حذیفہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے انھوں نے فرمایا تم میں کون ہے جسے فتنے کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث ایسے ہی یاد ہے جیسے آپ نے ارشاد فرمائی میں نے عرض کیا کہ میں ہوں، حضرت حذیفہ فرماتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا یقیناً تو جری ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیسے ارشاد فرمایا میں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے گھر اور مال اور اپنی ذات اور پڑوسی میں فتنہ اس کا کفارہ ہوجائے گا روزہ اور صدقہ اور اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا، حضرت عمر نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح زور پر ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض امیر المؤمنین بلاشبہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، حضرت عمر نے فرمایا کیا دروازہ توڑا جائے یا کھولا جائے گا راوی حضرت حذیفہ فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انھوں نے فرمایا یہ (دروازہ) زیادہ لائق ہے اس بات کے کہ اسے کبھی بند نہ کیا جائے۔ شقیق راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ سے پوچھا کیا حضرت عمر جانتے تھے دروازہ کون ہے انھوں نے فرمایا ہاں جیسے میں جانتا ہوں کہ صبح رات سے پہلے ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی ہے نہ کہ مغالطہ آمیز باتیں راوی حضرت شقیق کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہ سے یہ بات کہ دروازہ کون ہے پوچھنے سے ڈر گئے ہم نے حضرت مسروق سے کہا آپ ان سے پوچھیں انھوں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا حضرت عمر ۔