(۳۸۲۹۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ بَہْرَامُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُنْذِرُ بْنُ ہَوْذَۃَ ، عَنْ خَرَشَۃَ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَمَرَّ عَلَی قَوْمٍ یُقْرِئُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا ، فَقَالَ : إِنْ تَکُونُوا علَی الطَّرِیقَۃِ ، لَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِیدًا ، وَإِنْ تَدَعُوہُ فَقَدْ ضَلَلْتُمْ ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ إِلَی حَلْقَۃٍ ، فَقَالَ : إنَّا کُنَّا قَوْمًا آمَنَّا قَبْلَ أَنْ نَقْرَأَ وَإِنَّ قَوْمًا سَیَقْرَؤُونَ قَبْلَ أَنْ یُؤْمِنُوا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : تِلْکَ الْفِتْنَۃُ ، قَالَ : أَجَلْ ، قَدْ أَتَتْکُمْ مِنْ أَمَامِکُمْ حَیْثُ تَسُوئُ وُجُوہَکُمْ ، ثُمَّ لِتَأْتِیَکُمْ دِیَمًا دِیَمًا ، إِنَّ الرَّجُلَ لَیَرْجِعُ فَیَأْتَمِرُ الأَمْرَیْنِ : أَحَدُہُمَا عَجْزٌ وَالآخَرُ فُجُورٌ ، قَالَ خَرَشَۃُ : فَمَا بَرِحْت إِلاَّ قَلِیلاً حَتَّی رَأَیْت الرَّجُلَ یَخْرُجُ بِسَیْفِہِ یَسْتَعْرِضُ النَّاسَ۔
(٣٨٢٩٣) حضرت خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ مسجد میں تشریف لائے کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں سے کچھ دوسروں کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت حذیفہ نے فرمایا اگر تم درست طریقے پر قائم ہو تو تم بہت سبقت لے گئے ہو اور اگر تم اسے چھوڑ چکے ہو تو تم گمراہ ہوچکے ہو راوی فرماتے ہیں پھر ایک حلقہ میں تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا بلاشبہ ہم لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے ایمان لائے اور آئندہ کچھ لوگ ایمان لانے سے پہلے قرآن پڑھیں گے لوگوں مں ئ سے ایک صاحب نے عرض کیا یہ فتنہ ہوگا ارشاد فرمایا ہاں وہ تمہارے سامنے سے جہاں سے تم رنجیدہ ہو وہاں سے آئے گا پھر رش کی طرح (آہستہ آہستہ ہمیشگی کے ساتھ) آتا رہے گا۔ بلاشبہ کوئی آدمی اس سے لوٹے گا اور دو کاموں کا حکم دے گا ایک ان میں سے عجز اور دوسرا فسق و فجور ہے۔ حضرت خرشہ فرماتے ہیں (اس بات کے) تھوڑی ہی مدت کے بعد میں نے دیکھا ایک آدمی کو کہ وہ اپنی تلوار لے کر نکلا لوگوں کا پیچھا کرتا تھا۔