(۳۸۲۹۵) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَیْرِ أَخْبَرَہُ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ لَہُ : کَیْفَ أَنْتَ وَفِتْنَۃٌ خَیْرُ النَّاسِ فِیہَا غَنِیٌّ خَفِیٌّ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَکَیْفَ ؟ وَإِنَّمَا ہُوَ عَطَائٌ أَحَدُنَا یَطْرَحُ بِہِ کُلَّ مُطْرَحٍ ، وَیَرْمِی بِہِ کُلَّ مَرْمًی ، قَالَ : کُنْ إذًا کَابْنِ الْمَخَاضِ لاَ رَکُوبَۃَ فَتُرْکَبُ وَلاَ حَلُوبَۃَ فَتُحْلَبُ۔
(٣٨٢٩٥) حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ نے ان سے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری جبکہ ایک فتنہ ہوگا اس میں لوگوں میں سے سب سے بہتر پوشیدہ غنی آدمی ہوگا۔ حضرت عامر بن واثلہ نے فرمایا میں نے کہا یہ کیسے ہوگا انھوں نے فرمایا بلاشبہ وہ ہم میں سے کسی کی عطاء ہے جسے وہ ڈالنے والی جگہ ڈال دیتا ہے اور پھینکنے والی جگہ میں پھینک دیتا ہے (اور) فرمایا اس وقت اونٹنی کے ایک سال کے بچے کی طرح ہوجانا جو نہ سواری بن سکتا ہے کہ اسے سواری بنایا جائے اور نہ دودھ دینے والا ہوتا ہے کہ اس سے دودھ دھویا جائے۔