(۳۸۲۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ ، قَالَ : قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : أَکَفَرَتْ بَنُو إسْرَائِیلَ فِی یَوْمٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : لاَ ، وَلَکِنْ کَانَتْ تُعْرَضُ عَلَیْہِمُ الْفِتْنَۃُ فَیَأْبَوْنَہَا فَیُکْرَہُونَ عَلَیْہَا ، ثُمَّ تُعْرَضُ عَلَیْہِمْ فَیَأْبَوْنَہَا حَتَّی ضُرِبُوا عَلَیْہَا بِالسِّیَاطِ وَالسُّیُوفِ حَتَّی خَاضُوا إِخَاضَۃ الْمَائِ حَتَّی لَمْ یَعْرِفُوا مَعْرُوفًا وَلَمْ یُنْکِرُوا مُنْکَرًا۔
(٣٨٢٩٧) حضرت میمون بن ابوشبیب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ سے پوچھا گیا، بنی اسرائیل نے ایک دن میں کفر کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا نہیں لیکن ان پر فتنہ پیش کیا جاتا تھا اور وہ اسے اختیار کرنے سے انکار کرتے تھے پس انھیں اس پر مجبور کیا جاتا تھا پھر فتنہ ان پر پیش کیا گیا انھوں نے اسے اختیار کرنے سے انکار کیا، یہاں تک کہ انھیں اس کے اختیار کرنے پر کوڑوں اور تلواروں کے ذریعے مارا گیا یہاں تک کہ وہ اس فتنے میں گھس گئے پانی میں گھس جانے کی طرح (نوبت بایں جارسید) یہاں تک کہ وہ کسی نیکی کو نہ جانتے پہچانتے تھے اور نہ کسی منکر پر انکار کرتے تھے۔