(۳۸۳۰۵) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِی ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : إیَّاکُمْ وَقِتَالَ عِمِّیَّۃٍ وَمِیتَۃَ جَاہِلِیَّۃٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا قِتَالُ عِمِّیَّۃٍ ، قَالَ : إِذَا قِیلَ : یَا لَفُلاَنُ ، یَا بَنِی فَُلاَنٍ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا مِیتَۃُ جَاہِلِیَّۃٍ ، قَالَ : أَنْ تَمُوتَ وَلاَ إمَامَ عَلَیْک۔
(٣٨٣٠٥) حضرت ابو المتوکل الناجی حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں انھوں نے فرمایا بچو تم اندھی لڑائی اور جاہلیت کی موت سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اندھی لڑائی کیا ہے ارشاد فرمایا جب یہ پکار ہو اے فلاں اے فلاں کے بیٹے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی جاہلیت کی موت سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا تجھے موت اس حالت میں آئے کہ تم پر کوئی امام مقرر نہ ہو۔