(۳۸۳۰۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : لَمَّا تَشَعَّبَ النَّاسُ فِی الطَّعْنِ عَلَی عُثْمَانَ قَامَ أَبِی فَصَلَّی مِنَ اللَّیْلِ ، ثُمَّ نَامَ ، قَالَ : فَقِیلَ لَہُ : قُمْ فَاسْأَلِ اللَّہَ أَنْ یُعِیذَک مِنَ الْفِتْنَۃِ الَّتِی أَعَاذَ مِنْہَا عِبَادَہُ الصَّالِحِینَ ، قَالَ : فَقَامَ فَمَرِضَ فَمَا رُئِیَ خَارِجًا حَتَّی مَاتَ۔
(٣٨٣٠٧) حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان پر طعن کے بارے میں گروہوں میں بٹ گئے تو میرے والد کھڑے ہوئے صلوۃ اللیل ادا کی اور پھر سو گئے فرماتے ہیں ان سے کہا گیا آپ کھڑے ہوجائیں اور اللہ سے سوال کریں کہ وہ آپ کو اس فتنے سے پناہ دے جس سے اس نے نیک لوگوں کو پناہ بخشی ہے راوی فرماتے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور بیمار ہوگئے پھر انھیں گھر سے باہر نہیں دیکھا گیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی۔