(۳۸۳۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : کَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَبِسَتْکُمْ الفِتْنَۃُ یَرْبُو فِیہَا الصَّغِیرُ ، وَیَہْرَمُ فِیہَا الْکَبِیرُ ، وَیَتَّخِذُہَا النَّاسُ سُنَّۃً ، فَإِنْ غُیِّرَ مِنْہَا شَیْئٌ قِیلَ : غُیِّرَتِ السُّنَّۃُ ، قَالُوا : مَتَی یَکُونُ ذَلِکَ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ قَالَ : إِذَا کَثُرَتْ قُرَّاؤُکُمْ وَقَلَّتْ أُمَنَاؤُکُمْ ، وَکَثُرَتْ أُمَرَاؤُکُمْ ، وَقَلَّتْ فُقَہَاؤُکُمْ ، وَالْتُمِسَتِ الدُّنْیَا بِعَمَلِ الآخِرَۃِ۔
(٣٨٣١١) حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کیا ہوگی تمہاری حالت اس وقت جب ایک فتنہ مسلسل تم پر طاری رہے گا جس میں چھوٹے پرورش پاجائیں گے اور بڑے بوڑھے ہوجائیں گے یہ لوگ اسے سنت قرار دیں گے اگر اس میں سے کچھ بدلا جائے گا تو کہا جائے گا سنت تبدیل کردی گئی لوگوں نے عرض کیا یہ کب واقع ہوگا اے ابوعبدالرحمن تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہارے قراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے امین کم ہوجائیں گے اور تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے فقہاء کم ہوجائیں گے اور دنیا تلاش کی جائے گی آخرت کے اعمال سے۔