(۳۸۳۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِیبِ بْنِ غَرْقَدَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِیّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ : أَیُّ یَوْمٍ أحرم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالُوا : یَوْمُ الْحَجِّ الأَکْبَرِ ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا ، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا ، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا ، أَلاَ لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ ، لاَ یَجْنِی جَانٍ إِلاَّ عَلَی نَفْسِہِ ، لاَ یَجْنِی وَالِدٌ عَلَی وَلَدِہِ ، وَلاَ مَوْلُودٌ عَلَی وَالِدِہِ، أَلاَ یَا أُمَّتَاہُ ہَلْ بَلَّغْت ، قَالُوا: نَعَمْ ، قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔ (ابوداؤد ۳۳۲۷۔ ترمذی ۲۱۵۹)
(٣٨٣١٧) حضرت عمر سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کس دن میں نے احرام باندھا ہے ؟ تین مرتبہ یہ سوال فرمایا صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا حج والے دن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن (یعنی عرفہ کی) کی حرمت کی طرح اس مہینے میں اس شہر میں خبردار نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ہی ذات پر نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ذات پر زیادتی کرے والد اپنی اولاد پر اور نہ اولاد اپنے والد پر، خبردار اے میری امت کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا جی ہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا یہ تین مرتبہ فرمایا۔