(۳۸۳۱۹) حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : أَیُّ شَہْرٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ ذَا الْحِجَّۃِ ؟ قُلْنَا : بَلَی ، قَالَ : فَأَیُّ بَلَدٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : أَیُّ یَوْمٍ ہَذَا ؟ قُلْنَا : اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّہُ سَیُسَمِّیہِ بِغَیْرِ اسْمِہِ ، قَالَ : أَلَیْسَ یَوْمَ النَّحْرِ ؟ قُلْنَا : بَلَی یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحْسَبُہُ ، قَالَ : وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ ، کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا، فِی بَلَدِکُمْ ہَذَا، فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَیَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ۔(بخاری ۴۴۰۶۔ مسلم ۳۰)
(٣٨٣١٩) حضرت ابو بکرہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں، راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ اس مہینے کو اس کے نام کے علاوہ دوسرا نام دیں گے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں، ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ارشاد فرمایا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس شہر کو کوئی اور نام سے موسوم کریں گے ارشاد فرمایا کیا یہ بامد حرام نہیں ہے ہم نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا یہ کونسا ہے دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس دن کو کوئی اور نام دیں گے ارشاد فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے اموال محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں اس مہینے میں اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔