(۳۸۳۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ الْجَرَعَۃِ قِیلَ لِحُذَیْفَۃَ : أَلاَ تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ ، قَالَ : مَا یُخْرِجُنِی مَعَہُمْ قَدْ عَلِمْت أَنَّہُمْ لَمْ یُہْرِیقُوا بَیْنَہُمْ مِحْجَمًا مِنْ دَمٍ حَتَّی یَرْجِعُوا ، وَلَقَدْ ذُکِرَ فِی حَدِیثِ الْجَرَعَۃِ حَدِیثُ کَثِیرٌ : مَا أُحِبّ ، أَنَّ لِی بِہِ مَا فِی بَیْتِکُمْ ، إِنَّ الْفِتْنَۃَ تَسْتَشْرِفُ مَن اسْتَشْرَفَ لَہَا۔ (احمد ۳۹۴)
(٣٨٣٢٢) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالانکہ میں جانتا ہوں کہ انھوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں۔۔۔ مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلاشبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انھیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا)