(۳۸۳۵۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالاَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّہُ قَالَ : یَا خَالِدُ ، إِنَّہَا سَتَکُونُ أَحْدَاثٌ وَاخْتِلاَفٌ ، وَقَالَ عَفَّانُ : وَفُرْقَۃٌ فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَإِنَ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَکُونَ الْمَقْتُولَ لاَ الْقَاتِلَ ، قَالَ عَفَّانُ : فَافْعَلْ۔ (بزار ۳۳۵۶۔ احمد ۲۹۲)
(٣٨٣٥٢) حضرت خالد بن عرفطہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ارشاد فرمایا اے خالد بلاشبہ آئندہ نئی باتیں اور اختلافات ہوں گے عفان راوی فرماتے ہیں یہ بھی فرمایا اور فرقت یعنی جدائی بھی ہوگی پس جب یہ ہوجائے تو اگر تم سے ہوسکے کہ تو مقتول ہو قاتل نہ ہو (عفان راوی نقل کرتے ہیں) تو ایسا کرلینا۔