(۳۸۳۵۹) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی مُسْلِمٍ ، عَنْ رِبْعِیٍّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْثَالاً وَاحِدًا وَثَلاَثَۃً وَخَمْسَۃً وَسَبْعَۃً وَتِسْعَۃً وَأَحَدَ عَشَرَ ، وَفَسَّرَ لَنَا مِنْہَا وَاحِدًا وَسَکَتَ ، عَنْ سَائِرِہَا ، فَقَالَ : إِنَّ قَوْمًا کَانُوا أَہْلَ ضَعْفٍ وَمَسْکَنَۃٍ فَقَاتَلُوا قَوْمًا أَہْلَ حِیلَۃٍ وَعِدَائٍ ، فَظَہَرُوا عَلَیْہِمْ فَاسْتَعْمَلُوہُمْ وَسَلَّطُوہُمْ فَأَسْخَطُوا رَبَّہُمْ عَلَیْہِمْ۔ (احمد ۴۰۷)
(٣٨٣٥٩) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں ایک تین پانچ سات نو گیارہ اور ان میں سے ایک کی ہمارے سامنے وضاحت کی اور باقیوں سے خاموش رہے پس ارشاد فرمایا : بلاشبہ کچھ لوگ کمزو ری اور مسکنت والے تھے پس انھوں نے تدبیر اور دوڑ والے لوگوں سے لڑائی کی وہ ان پر غالب آگئے (یعنی تدبیر والے غالب آئے) اور ان کو اپنے کاموں میں لگا لیا اور ان پر مسلط ہوگئے پس انھوں نے اپنے رب کو اپنے اوپر ناراض کرلیا۔