(۳۸۳۶۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ عُرْوَۃَ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ أَبِی سَلَمَۃَ، عَنْ حَبِیبۃ، عَنْ أُمِّ حَبِیبَۃَ، عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَنَّہَا ، قَالَتْ : اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمِہِ مُحْمَرًّا وَجْہُہُ وَہُوَ یَقُولُ : لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ ، وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، فُتِحَ الْیَوْمَ مِنْ رَدْمِ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ ، وَعَقَدَ بِیَدِہِ ، یَعْنِی عَشَرَۃً ، قَالَتْ زَیْنَبُ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَنُہْلِکُ وَفِینَا الصَّالِحُونَ ، قَالَ : نَعَمْ ، إِذَا ظَہَرَ الْخَبَثُ۔
(مسلم ۲۲۰۷۔ ابن ماجہ ۳۹۵۳)
(٣٨٣٦٩) حضرت زینب بنت جحش سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نیند سے بیدار ہوئے اس حال میں کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور یہ ارشاد فرما رہے تھے، لا الہ الا اللہ عرب کے لے قریب کے شرو برائی سے ہلاکت ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے کچھ کھول لیا گیا اور اپنے ہاتھ سے دس کا عدد بنایا جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا کنارے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے موڑ کے درمیان میں رکھ کر حلقہ بنایا جائے حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ نیک لوگ ہمارے اندر موجود ہوں آپ نے ارشاد فرمایا ہاں جب خباثت ظاہر ہوجائے۔