(۳۸۳۹۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، أَنَّ عَلِیًّا أَرْسَلَ إِلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ أَنْ یَأْتِیَہُ ، فَأَرْسَلَ إلَیْہِ ، وَقَالَ : إِنْ ہُوَ لَمْ یَأْتِنِی فَاحْمِلُوہُ ، فَأَتَوْہُ فَأَبَی أَنْ یَأْتِیَہُ ، فَقَالُوا : إنَّا قَدْ أُمِرْنَا إِنْ لَمْ تَأْتِہِ أَنْ نَحْمِلَک حَتَّی نَأْتِیَہُ بِکَ ، قَالَ : ارْجِعُوا إلَیْہِ فَقُولُوا لَہُ : إِنَّ ابْنَ عَمِّکَ وَخَلِیلِی عَہِدَ إلَیَّ ، أَنَّہُ سَتَکُونُ فِتْنَۃٌ وَفُرْقَۃٌ وَاخْتِلاَفٌ ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَاجْلِسْ فِی بَیْتِکَ وَاکْسِرْ سَیْفَک حَتَّی تَأْتِیَک مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ ، أَوْ یَدٌ خَاطِئَۃٌ ، فَاتَّقِ اللَّہَ یَا عَلِیُّ وَلاَ تَکُنْ تِلْکَ الْیَدَ الْخَاطِئَۃَ ، فَأَتَوْہُ فَأَخْبَرُوہُ ، فَقَالَ : دَعُوہُ۔
(٣٨٣٩٤) حضرت علی بن زید سے روایت ہے کہ حضرت علی نے حضرت محمد بن مسلمہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا اگر وہ میرے پاس نہ آئیں تو ان کو اٹھا کرلے آنا حضرت علی کے بھیجے ہوئے حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس آئے انھوں نے ان کے پاس جانے سے انکار کردیا انھوں نے کہا ہمیں حکم دیا گیا ہے اگر آپ نہ جائیں تو ہم آپ کو اٹھا کر ان کے پاس لے جائیں حضرت محمد بن مسلمہ نے ارشاد فرمایا ان کی طرف لوٹ جاؤ اور ان سے کہو آپ کے چچا کے بیٹے میرے خلیل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی کہ عنقریب فتنے اور تفرقے اور اختلاف ہوں گے جب یہ ہوجائے تو تو اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اپنی تلوار توڑ دینا یہاں تک کہ تیرے پاس فیصلہ کرنے والی موت یا غلیا کرنے والا ہاتھ آجائے اے علی اللہ سے ڈر اور ایسا نہ ہو کہ یہ غلطی کرنے والا ہاتھ ہو (حضرت علی کے بھیجے ہوئے) وہ ان کے پاس آئے اور حضرت علی کو بتلایا انھوں نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۔