(۳۸۴۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، قَالَ : حدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : تُوشِکُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَی عَلَیْکُمْ کَمَا تَدَاعَی الْقَوْمُ عَلَی قَصْعَتِہِمْ ، یُنْزَعُ الْوَہْنُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّکُمْ وَیُجْعَلُ فِی قُلُوبِکُمْ وَتُحَبَّبُ إلَیْکُمُ الدُّنْیَا ، قَالُوا : مِنْ قِلَّۃٍ ، قَالَ : أَکْثَرُکُمْ غُثَائٌ کَغُثَائِ السَّیْلِ۔ (احمد ۲۷۸۔ طیالسی ۹۹۲)
(٣٨٤٠٢) حضرت ثوبان سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا قریب ہے کہ لوگ تمہارے خلاف ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گے جیسے لوگ اپنے پیالے کی طرف ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں وھن (دنیا کی محبت اور موت سے کراہت) تمہارے دشمنوں کے دلوں سے نکال لیا جائے گا اور تمہارے قلوب میں ڈال دیا جائے گا دنیا تمہارے نزدیک محبوب ہوجائے گی لوگوں نے عرض کیا ایسا قلت کی وجہ سے ہوگا ارشاد فرمایا تمہاری کثرت جھاگ کے برابر ہوگی سیلاب کے جھاگ کی طرح۔