(۳۸۴۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ: وَیْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ ، أَظَلَّتْ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ أَظَلَّتْ ، وَاللہِ لَہِیَ أَسْرَعُ إلَیْہِمْ مِنَ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ السَّرِیعِ ، الْفِتْنَۃُ الْعَمْیَائُ الصَّمَّائُ الْمُشْبِہَۃُ ، یُصْبِحُ الرَّجُلُ فِیہَا عَلَی أَمْرٍ وَیُمْسِی عَلَی أَمْرٍ ، الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی ، وَالْمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی ، وَلَوْ أُحَدِّثُکُمْ بِکُلِّ الَّذِی أَعْلَمُ لَقَطَعْتُمْ ، عُنُقِی مِنْ ہَاہُنَا ، وَأَشَارَ عَبْدُ اللہِ إِلَی قَفَاہُ بِحَرْفِ کَفِّہِ یَحُزّہ ، وَیَقُولُ : اللَّہُمَّ لاَ یُدْرِکُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ إمْرَۃُ الصِّبْیَانِ۔
(٣٨٤٠٦) حضرت عمیر بن اسحاق سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا : میں نے حضرت ابوہریرہ کو فرماتے ہوئے سنا ہلاکت ہے، عرب کے لیے ایسی برائی سے جو قریب ہوچکی قریب ہوگی رب کعبہ کی قسم قریب ہوگی اللہ کی قسم وہ ان کو تیز رفتار دبلے گھوڑے سے بھی جلدی پہنچے گی۔ اندھا بہرا اشتباہ میں ڈالنے والا فتنہ ہوگا اس میں یک آدمی ایک امر پر جمع کرے گا اور دوسرے امر پر شام کرے گا اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا اس میں چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا اگر میں تم سے تمام وہ باتیں بیان کروں جو میں جانتا ہوں تو تم میری گردن یہاں سے کاٹ دو (یہ کہتے ہوئے) حضرت عبداللہ نے اشارہ کیا اپنی گدی کی طرف اپنی ہتھیلی کے کنارے سے اسے حرکت دیتے ہوئے اور فرمایا اے اللہ ! ابوہریرہ کو بچوں کی امارت (کا زمانہ) نہ پالے۔