(۳۸۴۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ وَمِسْعَرٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِی الشَّعْثَائِ ، عَنْ رَجَائِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: إنَّکُمَ ابْتُلِیتُمْ بِفِتْنَۃِ الضَّرَّائِ فَصَبَرْتُمْ ، وَسَتُبْتَلَوْنَ بِفِتْنَۃِ السَّرَّائِ ، وَإِنَّ أَخْوَف مَا أَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ فِتْنَۃُ النِّسَائِ إِذَا سُوِّرْنَ الذَّہَبَ وَلَبِسْنَ رَیْطَ الشَّامِ فَأَتْعَبْنَ الْغَنِیَّ وَکَلَّفْنَ الْفَقِیرَ مَا لاَ یَجِدُ۔ (ابن المبارک ۷۸۵)
(٣٨٤٣٦) حضرت معاذ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا یقیناً تمہیں تنگی کے فتنے میں آزمایا جائے گا پس صبر کرنا اور عنقریب تمہیں آسانی کے فتنے میں آزمایا جائے گا اور بلاشبہ جن چیزوں کا مجھے تم پر خوف ہے ان میں سے سب سے زیادہ خوف عورتوں کے فتنے سے ہے جب ان کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ شام کا باریک کپڑا پہنیں گی مالدار کو تھکا دیں گی اور فقیر کو ایسی چیزوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گی جو اس کے پاس نہیں ہوں گی۔