(۳۸۴۳۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ ابْن سِیرِینَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَا ذُکِرَ مِنَ الآیَاتِ فَقَدْ مَضَی إِلاَّ أَرْبَعٌ: طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَالدَّجَّالُ وَدَابَّۃُ الأَرْضِ وَخُرُوجُ یَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، قَالَ: وَالآیَۃُ الَّتِی تُخْتَتمُ بِہَا الأَعْمَالُ طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَی قَوْلِ اللہِ عزوجل: {یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ} الآیَۃَ۔ (طبرانی ۱۰۱)
(٣٨٤٣٨) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا جو نشانیاں ذکر کی گئی ہیں وہ گزر گئیں سوائے چار کے سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور دجال ( کا نکلنا) اور زمین کا جانور اور یاجوج ماجوج کا نکلنا ارشاد فرمایا جس پر اعمال ختم ہوجائیں گے وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہے کیا تم نے اللہ عزوجل کا ارشاد نہیں سنا کہ جس دن تیرے پروردگار کی کوئی نشانی تیرے پاس آئے گی تو ایسے آدمی کو جو ایمان نہیں لایا ہوگا ایمان لانا نفع نہیں دے گا (آیت کے اخیر تک)