(۳۸۴۵۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّۃَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَائُ تَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ ، فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِئَ ، وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ ، وَلَکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ ، قَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَفَلاَ نُقَاتِلُہُمْ ، قَالَ : لاَ ، مَا صَلَّوْا۔ (ترمذی ۲۲۶۵۔ احمد ۲۹۵)
(٣٨٤٥١) حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب امراء ہوں گے جن کو تم بھلائی کا حکم دو گے اور برائی سے روکو گے جس آدمی نے انکار کیا وہ بری ہوگیا جس آدمی نے ناپسند کیا وہ بھی محفوظ ہوگیا۔ لیکن وہ آدمی جو راضی ہوا اور پیروی کی صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔