(۳۸۴۵۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَقْنَعِ الْبَاہِلِیِّ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ، قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ لاَ تَرَاہُ حَلْقَۃٌ إِلاَّ فَرُّوا مِنْہُ حَتَّی انْتَہَی إِلَی الْحَلْقَۃِ الَّتِی کُنْت فِیہَا ، فَثَبَتُّ وَفَرُّوا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: مَا یَفِرُّ النَّاسُ مِنْک ، قَالَ: إنِّی أَنْہَاہُمْ عَنِ الْکُنُوزِ ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أُعْطِیَاتِنَا قَدْ بَلَغَتْ وَارْتَفَعَتْ فَتَخَافُ عَلَیْنَا مِنْہَا ، قَالَ : أَمَّا الْیَوْمُ فَلاَ وَلَکِنَّہَا یُوشِکُ أَنْ یَکُونَ أَثْمَان دِینِکُمْ ، فَدَعُوہُم وَإِیَّاہَا۔
(٣٨٤٥٥) حضرت احنف بن قیس سے روایت ہے انھوں نے فرمایا میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ایک صاحب آئے کہا کہ کوئی بھی (بیٹھنے والاحلقہ ان کو نہیں دیکھتا تھا مگر یہ کہ ان سے بھاگ جاتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ اس حلقے میں آگئے جس میں میں تھا پس میں ٹھہرا رہا اور دیگر لوگ بھاگ گئے۔ میں نے کہا آپ کون ہیں ؟ انھوں نے بتلایا ابو ذر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی۔ میں نے عرض کیا آپ سے لوگ کیوں بھاگے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا اس وجہ سے کہ میں ان کو خزانے جمع کرنے سے روکتا ہوں۔ حضرت احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ بیشک ہمارے عطیات کثیر تعداد کو پہنچ چکے ہیں اور بلند ہوچکے ہیں۔ کیا آپ ہم پر ان کی وجہ سے خوف کرتے ہیں انھوں نے فرمایا کہ اس وقت میں تو نہیں لیکن قریب ہے کہ وہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں۔ اس وقت ان عطیات سے اجتناب کرنا۔