(۳۸۴۶۵) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہَمَّامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَیُّوب السِّخْتِیَانِیُّ ، قَالَ : اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَسَعْدٌ ، وَابْنُ عُمَرَ وَعَمَّارٌ فَذَکَرُوا فِتْنَۃٌ تَکُونُ ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَمَّا أَنَا فَأَجْلِسُ فِی بَیْتِی وَلاَ أَخْرُجُ مِنْہُ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : أَنَا عَلَی مَا قُلْتَ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَا عَلَی مِثْلَ ذَلِکَ ، وَقَالَ عَمَّارٌ : لَکِنِّی أَتَوَسَّطُہَا فَأَضْرِبُ خَیْشُومَہَا الأَعْظَمَ۔ (مسند ۷۵۵)
(٣٨٤٦٥) حضرت ایوب السختیانی سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت سعد اور حضرت ابن عمر اور حضرت عمار جمع ہوئے آئندہ کے فتنے کے بارے میں تذکرہ کرنے لگے حضرت سعد نے فرمایا باقی رہا میں تو میں اپنے گھر میں بیٹھوں گا اور اس سے نہیں نکلوں گا اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا میں اس پر ہوں جو تم نے کہا اور حضرت ابن عمر نے فرمایا میں بھی اس کی مثل پر ہوں اور حضرت عمار نے فرمایا لیکن میں اس کے درمیان میں ہوں گا اس کے بڑے ناک پر ماروں گا۔