(۳۸۴۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَدِینَۃِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عَلَی رَایَاتِہِمْ ، فَأَرْسَلَ فَجِیئَ بِہِمْ ، فَقَالَ : مَا أَعْجَلَکُمْ ، قَالُوا : أَوَلَیْسَ قَدْ أَذِنْت لَنَا ، قَالَ : لاَ ، وَلاَ شَبَّہْت وَلَکِنَّکُمْ تَعَجَّلْتُمْ إِلَی النِّسَائِ بِالْمَدِینَۃِ ، ثُمَّ قَالَ : أَلاَ لَیْتَ شِعْرِی مَتَی تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِیئُ لَہَا أَعْنَاقُ الإِبِلِ بُرُوکًا إِلَی بَرْکِ الْغِمَادِ مِنْ عَدَنَ أَبْیَنَ کَضَوْئِ النَّہَارِ۔
(٣٨٤٧٠) حضرت ابوذر سے روایت ہے انھوں نے ارشاد فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر سے واپسی فرما رہے تھے جب مدینہ منورہ کے قریب ہوئے تو لوگوں نے اپنے جھنڈوں کے ساتھ جلدی کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف پیغام بھیجا ان کو لایا گیا آپ نے فرمایا کس چیز نے تمہیں جلدی میں ڈال دیا انھوں نے عرض کیا کیا آپ نے ہمیں اجازت نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا نہیں اور نہ ہی میں تشبیہ دی ہے۔ لیکن تم نے مدینہ میں عورتوں کی طرف جلدی کی پھر فرمایا ایک وقت آئے گا جب جبل وراق کی جانب سے ایک آگ ظاہر ہوگی، اس آگ کی وجہ سے عدن کے برک الغماد میں بیٹھے ہوئے اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی سے زیادہ روشن ہوجائیں گی۔