hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38475

.

ابن أبي شيبة

38475
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۴۷۶) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِیبٍ ، عَنْ ہُذَیْلٍ بْن شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : خَطَبَہُمْ مُعَاوِیَۃُ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، إنَّکُمْ جِئْتُمْ فَبَایَعْتُمُونِی طَائِعِینَ وَلَوْ بَایَعْتُمْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجْدَعًا لَجِئْت حَتَّی أُبَایِعَہُ مَعَکُمْ ، فَلَمَّا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، قَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : تَدْرِی أَیَّ شَیْئٍ جِئْت بِہِ الْیَوْمَ زَعَمْت أَنَّ النَّاسَ بَایَعُوک طَائِعِینَ ، وَلَوْ بَایَعُوا عَبْدًا حَبَشِیًّا لَجِئْت حَتَّی تُبَایِعَہُ مَعَہُمْ ، قَالَ : فَنَدِمَ فَعَادَ إِلَی الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ، وَہَلْ کَانَ أَحَدٌ أَحَقَّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنِّی ، وَہَلْ ہُوَ أَحَدٌ أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنِّی ، قَالَ : وَابْنُ عُمَرَ جَالِسٌ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : ہَمَمْت أَنْ أَقُولَ : أَحَقُّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْک مَنْ ضَرَبَک وَأَبَاک علی الإِسْلاَم ، ثُمَّ خِفْت أَنْ تَکُونَ کَلِمَتِی فَسَادًا وَذَکَرْت مَا أَعَدَّ اللَّہُ فِی الْجِنَانِ ، فَہَوَّنَ عَلَیَّ مَا أَقُولُ۔
(٣٨٤٧٦) حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت معاویہ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو ! بلاشبہ تم آئے ہو تم نے میری بیعت خوشی سے کی ہے اور اگر تم کان کٹے ہوئے حبشی غلام کی بیعت کرتے تو میں آتا اور تمہارے ساتھ اس کی بیعت کرتا جب منبر سے نیچے اتر آئے ان سے حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا آپ جانتے ہیں کہ آپ نے آج کیا کام کیا ہے آپ نے کہا ہے کہ تم نے خوشی سے میری بیعت کی ہے۔ پس اگر وہ حبشی غلام کی بیعت کرتے تو وہ آجائے گا اور آپ کو اس کی بیعت کرنی پڑے گی۔ وہ نادم ہوئے اور منبر کی جانب لوٹے اور ارشاد فرمایا اے لوگو کیا اس امر (خلافت) کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے اور کیا کوئی اس کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے راوی نے فرمایا اور حضرت ابن عمر وہاں تشریف فرما تھے راوی نے بتلایا حضرت ابن عمر نے فرمایا میں نے یہ ارادہ کیا کہ یوں کہوں اس امر کا آپ سے زیادہ حقدار وہ ہے جس نے آپ کو اور آپ کے والد کو اسلام پر مارا پھر مجھے خوف ہوا کہ میری یہ بات فساد ہوگی اور میں نے جنت میں جو اللہ نے تیار کر رکھا ہے اسے یاد کیا تو جو میں کہنا چاہتا تھا (اس سے رکنا) مجھ پر آسان ہوگیا۔