(۳۸۴۸۳) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِیَّۃَ ، عَنْ أُمِّہِ ، قَالَتْ : دَخَلَ ابْنُ عُمَرَ الْمَسْجِدَ ، وَابْنُ الزُّبَیْرِ مَصْلُوبٌ ، فَقَالُوا لَہُ : ہَذِہِ أَسْمَائُ ، فَأَتَاہَا وَذَکَّرَہَا وَوَعَظَہَا ، وَقَالَ : إِنَّ الْجُثَّۃَ لَیْسَتْ بِشَیْئٍ ، وَإِنَّ الأَرْوَاحَ عِنْدَ اللہِ فَاصْبِرِی وَاحْتَسِبِی ، فَقَالَتْ : وَمَا یَمْنَعُنِی مِنَ الصَّبْرِ وَقَدْ أُہْدِیَ رَأْسُ یَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا إِلَی بِغَیٍّ مِنْ بَغَایَا بَنِی إسْرَائِیلَ۔
(٣٨٤٨٣) حضرت صفیہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت ابن عمر مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت عبداللہ بن زبیر کو سولی دے دی گئی تھی انھوں نے کہا یہ اسمائ ہیں حضرت ابن عمران کے پاس آئے اور ان کو نصیحت کی اور ان سے اصلاح کی بات کی اور فرمایا جسم کوئی چیز نہیں اور روحیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں پس صبر کرو اور ثواب کی نیت کرو حضرت اسماء نے فرمایا اور مجھے صبر سے کونسی چیز روکے گی حالانکہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا سر بنی اسرائیل کی زانیہ عورتوں میں سے ایک زانیہ کو دیا گیا۔