(۳۸۴۸۶) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی حَفْصَۃَ ، عَنْ مُنْذِرٍ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ الْحَنَفِیَّۃِ فَرَأَیْتہ یَتَقَلَّبُ عَلَی فِرَاشِہِ وَیَنْفُخُ ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : مَا یَکْرُبُک مِنْ أَمْرِ عَدُوِّکَ ہَذَا ابْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا بِی عَدُوُّ اللَّہ ہَذَا ابْنُ الزُّبَیْرِ ، وَلَکِنْ بِی مَا یَفْعَلُ فِی حَرَمِہِ غَدًا ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ أَنْتَ تَعْلَمُ أَنِّی کُنْت أَعْلَمُ مِمَّا عَلَّمْتَنِی ، أَنَّہُ یَحْرُمُ مِنْہَا قَتِیلاً یُطَافُ بِرَأْسِہِ فِی الأَمْصَارِ ، أَوْ فِی الأَسْوَاقِ۔
(٣٨٤٨٦) حضرت منذر سے روایت ہے میں محمد بن حنفیہ کے پاس تھا میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے بستر پر کروٹیں بدل رہے تھے اور پھونکیں مار رہے تھے ان سے ان کی اہلیہ نے کہا کیا چیز آپ کو بےچین کر رہی ہے آپ کے دشمن ابن زبیر کے امر سے تو انھوں نے کہا مجھے اللہ کے دشمن ابن زبیر کے بارے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ مجھے پریشانی اس بات کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حرم میں کل کو کی جائے گی راوی فرماتے ہیں پھر انھوں نے اپنے ہاتھ اٹھائے آسمان کی طرف اور فرمایا اے اللہ آپ جانتے ہیں کہ جو آپ نے مجھے سکھایا بلاشبہ وہ (مراد بن زبرن تھے) حرم سے قتل کیا ہوا نکالا جائے گا اس کے سر کو شہروں میں فرمایا یا بازاروں میں فرمایا چکر لگوایا جائے گا۔