(۳۸۵۰۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی بَکْرَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : ذَکَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْضًا یُقَالُ لَہَا الْبَصْرَۃُ ، أَوِ الْبَصِیرَۃُ إِلَی جَنْبِہَا نَہْرٌ یُقَالُ لَہُ دِجْلَۃُ ذُو نَخْلٍ کَثِیرٍ یَنْزِلُ بِہِ بَنُو قَنْطُورَائَ فَتَفْتَرِقُ النَّاسُ ثَلاَثَ فِرَقٍ : فِرْقَۃٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِہَا وَہَلَکُوا ، وَفِرْقَۃٌ تَأْخُذُ عَلَی أَنْفُسِہَا وَکَفَرُوا ، وَفِرْقَۃٌ یَجْعَلُونَ ذَرَارِیَّہُمْ خَلْفَ ظُہُورِہِمْ فَیُقَاتِلُونَ ، قَتْلاَہُمْ شُہَدَائُ ، یَفْتَحُ اللَّہُ عَلَی بَقِیَّتِہِمْ۔ (ابو داؤد ۴۳۰۶۔ بزار ۳۶۶۷)
(٣٨٥٠٦) حضرت ابو بکرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک زمین کا تذکرہ کیا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہے اس کے ایک طرف ایک نہر ہے جسے دجلہ کہا جاتا ہے کثیر کھجوروں والی وہاں بنو قنطو راء اتریں گے (جو ترک کو کہا جاتا ہے اور حاکم کے قول کے مطابق اس سے مراد روم کے نصرانی ہیں) لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ اپنی اصل سے مل جائے گا اور ہلاک ہوجائے گا دوسرا گروہ اپنے نفسوں کو لے گا اور کفر کرے گا اور ایک گروہ اولاد کو پس پشت ڈال کر قتال کرے گا ان کے مقتولین شہداء ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کے باقی رہنے والوں کو فتح عطاء کرے گا۔