(۳۸۵۱۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْعِتْرِیُّ ، عَنْ جَبَلَۃَ بِنْتِ المصفح ، قَالَتْ : أَوْصَی مَالِکُ بْنُ ضَمْرَۃَ بِسِلاَحِہِ لِلْمُجَاہِدِینَ مِنْ بَنِی ضَمْرَۃَ أَلاَّ یُقَاتَلُ بِہِ أَہْلُ نُبُوَّۃٍ ، قَالَ : فَقَالَ : أَخُوہُ عِنْدَ رَأْسِہِ : یَا أَخِی عِنْدَ الْمَوْتِ تَقُولُ ہَذَا ، قَالَ : ہُوَ ذَاکَ ، قَالَ : فَنَحْنُ فِی حِلٍّ إِنِ احْتَاجَ وَلَدُک أَنْ یَبِیعَ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَذَہَبَ السِّلاَحُ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہُ إِلاَّ رُمْحٌ ، قَالَتْ : فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِکَ الْبَعْثِ الَّذِینَ سَارُوا إِلَی الْحُسَیْنِ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ مَالِکَ ، یَا مُوسَی ، أَعِرْنِی رُمْحَ أَبِیک أَعْتَرِضْ بِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : یَا جَارِیَۃُ ، أَعْطِہِ الرُّمْحَ ، فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ أَہْلِہِ : یَا مُوسَی ، أَمَا تَذْکُرُ وَصِیَّۃَ أَبِیک ، قَالَتْ : وَقَدْ مَرَّ الرَّجُلُ بِالرُّمْحِ ، قَالَتْ : فَلَحِقَ الرَّجُلُ فَأَخَذَ الرُّمْحَ مِنْہُ فَکَسَرَہُ۔
(٣٨٥١٦) حضرت جبلہ بنت مصفح سے روایت ہے انھوں نے فرمایا حضرت مالک بن ضمرہ نے مجاہدین کو اپنے اسلحہ کے بارے میں وصیت کی خبردار اس سے کشیدگی کرنے والوں کے ساتھ لڑائی کی جائے گی راوی محمد بن موسیٰ نے فرمایا ان کے بھائی نے ان کے سر کے پاس کہا اے بھائی موت کے وقت آپ یہ کہہ رہے ہیں انھوں نے کہا یہ ایسے ہی ہے ان کے بھائی نے کہا اگر آپ کی اولاد کو ضرورت ہو بیچنے کی تو کیا ہمارے لیے یہ جائز ہوگا انھوں نے فرمایا ہاں وہ اسلحہ لے گئے ایک نیزے کے سوا کوئی چیز نہ رہی، راویہ فرماتی ہیں اس لشکر میں سے جو حضر تحسین کے مقابلے میں گیا ایک آدمی آیا مالک بن ضمرہ کے بھائی نے کہا اے مالک کے بیٹے اے موسیٰ مجھے اپنے والد کا نیزہ عاریۃ دینا میں اسے ماروں روای فرماتے ہیں مالک کے بیٹے نے کہا اے لڑکی ان کو نیزہ دے دوان کے گھر والوں میں سے ایک عورت نے کہا اے موسیٰ کیا تمہیں اپنے والد کی وصیت یاد نہیں۔ اور وہ آدمی آپ کے والد کا نیزہ مانگ کرلے گیا۔ پس وہ اس کے پیچھے گئے اور اس سے نیزہ لے کر اسے توڑ دیا۔