(۳۸۵۱۹) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ، عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ، عَنِ ابْنِ طَاوُوس، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جَائَنِی حُسَیْنٌ یَسْتَشِیرُنِی فِی الْخُرُوجِ إِلَی مَا ہَاہُنَا یَعْنِی الْعِرَاقَ ، فَقُلْتُ : لَوْلاَ أَنْ یُزْرُوا بِی وَبِکَ لَشَبَّثْتُ یَدِی فِی شَعْرِکَ ، إِلَی أَیْنَ تَخْرُجُ ؟ إِلَی قَوْمٍ قَتَلُوا أَبَاک وَطَعَنُوا أَخَاک ، فَکَانَ الَّذِی سَخَا بِنَفْسِی عَنْہُ أَنْ قَالَ لِی : إِنَّ ہَذَا الْحَرَمَ یُسْتَحَلُّ بِرَجُلٍ ، وَلأَنْ أُقْتَلَ فِی أَرْضِ کَذَا وَکَذَا غَیْرَ أَنَّہُ یُبَاعِدُہُ أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ أَنْ أَکُونَ أَنَا ہُوَ۔
(٣٨٥١٩) حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت حسین میرے پاس عراق کی طرف جانے کے سلسلے میں مشورہ کے لیے آئے میں نے ان سے کہا اگر وہ میرے اور آپ کی ذات پر عیب نہ لگائیں تو میں مضبوطی کے ساتھ آپ سے چمٹ جاتا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو شہید کیا اور آپ کے بھائی کو نیزے مارے میرے ساتھ جو انھوں نے بات کے سلسلے میں سخاوت فرمائی اس میں یوں فرمایا یہ حرم کسی آدمی کے لیے لڑائی کے سلسلے میں حلال کیا جائے میں فلاں فلاں زمین میں قتل کردیا جاؤں اگرچہ وہ دور ہے مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس آدمی کی طرح ہوں جس کے ساتھ لڑائی کرنے میں حرم کو حلال سمجھا جائے۔