(۳۸۵۳۷) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ حُسَیْنٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ یُوسُفَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : اسْتَأْذَنْت عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ادْخُلْ ، قُلْتُ : فَأَدْخُلُ کُلِّی ، أَوْ بَعْضِی ، قَالَ : ادْخُلْ کُلَّک ، فَدَخَلْت عَلَیْہِ وَہُوَ یَتَوَضَّأُ وُضُوئًا مَکِیثًا ، فَقَالَ : یَا عَوْفَ بْنَ مَالِکَ ، سِتٌّ قَبْلَ السَّاعَۃِ مَوْتُ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذْ إحْدَی ، فَکَأَنَّمَا انْتُزِعَ قَلْبِی مِنْ مَکَانِہِ ، وَفَتْحُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَمَوْتٌ یَأْخُذُکُمْ تُقْعَصُونَ بِہِ کَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ ، وَأَنْ یَکْثُرَ الْمَالُ حَتَّی یُعْطَی الرَّجُلُ مِئَۃَ دِینَارٍ فَیَسْخَطُہَا ، وَفَتْحُ مَدِینَۃِ الْکُفْرِ ، وَہُدْنَۃٌ تَکُونُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ بَنِی الأَصْفَرِ ، فَیَأْتُونَکُمْ تَحْتَ ، ثَمَانِینَ غَایَۃً ، تَحْتَ کُلِّ غَایَۃٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا ، فَیَکُونُونَ أَوْلَی بِالْغَدْرِ مِنْکُمْ۔ (بخاری ۳۱۷۶۔ ابوداؤد ۴۹۶۱)
(٣٨٥٣٧) حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے ارشاد فرمایا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے داخل ہونے کی اجازت لی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا داخل ہوجاؤ میں نے عرض کیا میں سارا داخل ہوجاؤں یا کچھ (یہ مزاقاً کہا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سارا داخل ہوجا میں آپ کے پاس گیا آپ آہستہ سے وضو کر رہے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عوف بن مالک چھ باتیں قیامت سے پہلے ہوں گی تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت یہ ایک لے لے (راوی نے فرمایا) اس بات سے گویا انھوں نے میرا دل کھینچ لیا اور (دوسری) بیت المقدس کی فتح حاصل ہوگی اور (تیسری) موت ہوگی تو تمہیں آن لے گی تم اس سے جلدی مرجاؤ گے جیسے بکریاں قعاص کی بیماری سے جلدی مرجاتی ہیں اور (چوتھا) مال کثرت سے ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سو دینار دیے جائیں گے وہ انھیں ناپسند کرے گا کفار کا شہر فتح ہوگا اور صلح ہوگی تمہارے اور رومیوں کے درمیان وہ تمہارے پاس اسی جھنڈیوں کے نیچے آئیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے وہ تم سے عذر کرنے میں آگے ہوں گے۔