(۳۸۵۴۵) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِینَ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْہِ حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : أَمِنَ الْقَوْمِ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : بِاللہِ مِنْہُمْ أَنَا ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَنْ أُخْبِرَ بِہِ أَحَدًا بَعْدَک۔ (وکیع ۴۷۷)
(٣٨٥٤٥) حضرت زید بن وہب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ منافقین میں سے ایک آدمی فوت ہوا حضرت حذیفہ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ منافقین میں سے ہے ؟ انھوں نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ! حضرت عمر نے ان سے پوچھا اللہ کے لیے مجھے بتاؤ کیا میں ان منافقین میں سے ہوں ؟ تو انھوں نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اور ہرگز میں اس بارے میں آئندہ نہیں بتاؤں گا (کہ کون منافق ہے اور کون نہیں)