(۳۸۵۵۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ ، قَالَ : الْقُلُوبُ أَرْبَعَۃٌ : قَلْبٌ مُصَفَّحٌ فَذَاکَ قَلْبُ الْمُنَافِقِ ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ ، فَذَاکَ قَلْبُ الْکَافِرِ ، وَقَلْبٌ أَجْرَدُ کَأَنَّ فِیہِ سِرَاجًا یَزْہر ، فَذَاکَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ ، وَقَلْبٌ فِیہِ نِفَاقٌ وَإِیمَانٌ فَمِثْلُہُ مِثْلُ قُرْحَۃٍ یَمُدُّہَا قَیْحٌ وَدَمٌ ، وَمِثْلُہُ مِثْلُ شَجَرَۃٍ یَسْقِیہَا مَائٌ خَبِیثٌ وَمَائٌ طَیِّبٌ ، فَأَیُّ مَائٍ غَلَبَ عَلَیْہَا ؛ غَلَبَ۔
(٣٨٥٥٠) حضرت حذیفہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک تو الٹا دل یہ منافق کا دل ہے اور غلاف میں لپٹا ہوا دل یہ کافر کا دل ہے اور صاف دل گویا کہ اس میں چراغ چمک رہا ہے یہ مومن کا دل ہے اور جس دل میں نفاق اور ایمان ہے اس کی مثال پھوڑے کی ہے جس میں پیپ اور خون ہو اور اس کی مثال اس درخت جیسی ہے جس کو خراب پانی اور عمدہ پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جو پانی اس پر غالب ہوگا وہ ویسا ہی ہوگا۔