(۳۸۵۶۵) حَدَّثَنَا ہَوْذَۃُ بْنُ خَلِیفَۃَ، قَالَ: حدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: یَقْتَتِلُ النَّاسُ بَیْنَہُمْ عَلَی دَعْوَی جَاہِلِیَّۃٍ عِنْدَ قَتْلِ أَمِیرٍ ، أَوْ إخْرَاجِہِ فَتَظْہَرُ إحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ حِینَ تَظْہَرُ وَہِیَ ذَلِیلَۃٌ فَیَرْغَبُ فِیہِمْ مَنْ یَلِیہِمْ مِنَ الْعَدُوِّ فَیَسِیرُونَ إلَیْہِمْ وَیَتقَحَّمُ أُنَاسٌ فِی الْکُفْرِ تَقَحُّمًا۔
(٣٨٥٦٥) حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ لوگ آپس میں جاہلیت کی پکار کے تقاضوں پر لڑائی کریں گے کسی امیر کے قتل ہونے یا اس کے نکالنے کے وقت پس دونوں گروہوں میں سے ایک غالب آجائیگا جب کہ وہ ذلیل تھا تو ان کے پاس والے دشمن ان میں رغبت کریں گے اور ان پر حلہ کردیں گے اور لوگ کفر میں گرتے چلے جائیں گے۔