(۳۸۵۸۱) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ ہِشَامٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ جَبَلَۃَ ، عَنْ عَامِرٍ بْنِ مَطَرٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ حُذَیْفَۃَ ، فَقَالَ : یُوشِکُ أَنْ تَرَاہُمْ یَنْفَرِجُونَ ، عَنْ دِینِہِمْ کَمَا تَنْفَرِجُ الْمَرْأَۃُ ، عَنْ قُبُلِہَا ، فَأَمْسِکْ بِمَا أَنْتَ عَلَیْہِ الْیَوْمَ فَإِنَّہُ الطَّرِیقُ الْوَاضِحُ ، کَیْفَ أَنْتَ یَا عَامِرُ بْنُ مَطَرٍ إِذَا أَخَذَ النَّاسُ طَرِیقًا وَالْقُرْآنُ طَرِیقًا ، مَعَ أَیُّہُمَا تَکُونُ قُلْتُ : مَعَ الْقُرْآنِ ، أَحْیَا مَعَہُ وَأَمُوتُ مَعَہُ ، قَالَ : فَأَنْتَ أَنْتَ إذًا۔
(٣٨٥٨١) حضرت عامربن مطر سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت حذیفہ کے ساتھ تھا انھوں نے فرمایا قریب ہے کہ تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اپنے دین ارزاں کردیں گے جیسے عورت اپنی شرمگاہ کو ارزاں کردیتی ہے جس طریقے پر آج تم ہو اس پر ٹھہرے رہو کیونکہ وہ واضح راستہ ہے اے عامر بن مطر تمہاری کیا حالت ہوگی جب لوگ ایک راستہ اختیار کرلیں گے اور قرآن کا ایک راستہ ہوگا تم دونوں میں سے کس کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا قرآن کے ساتھ رہوں گا اسی کے ساتھ زندہ رہوں گا اور اس کے ساتھ مروں گا حضرت حذیفہ نے فرمایا اس وقت تو تو ہی ہوگا۔