(۳۸۵۹۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی الزُّبَیْرِ أَیَّامَ الْجَمَلِ ، فَقَالَ : أَقْتُلُ لَکَ عَلِیًّا ، قَالَ : وَکَیْفَ ، قَالَ : آتِیہِ فَأُخْبِرُہُ أَنِّی مَعَہُ ، ثُمَّ أَفْتِکُ بِہِ ، فَقَالَ الزُّبَیْرُ : لاَ ، سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : الإِیمَانُ قَیَّد الْفَتْک ، لاَ یَفْتِکُ مُؤْمِنٌ۔ (عبدالرزاق ۹۶۷۶۔ احمد ۱۶۶)
(٣٨٥٩١) حضرت حسن بصری سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ جنگ جمل کے دنوں میں ایک آدمی حضرت زبیر کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں آپ کے لیے علی کو قتل کردوں انھوں نے کہا کیسے اس نے کہا میں اس کے پاس جاؤں گا اور اسے بتلاؤں گا کہ میں اس کے ساتھ ہوں پھر دھوکے سے موقع پا کر قتل کردوں گا حضرت زبیر نے فرمایا نہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان دھوکے سے قتل کرنے کو روکتا ہے مومن کو دھوکے سے قتل نہیں کیا جائے گا۔