قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ ، قَالَ :
(۳۸۶۱۰) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَنَا أَخْتِمُ أَلْفَ نَبِیٍّ ، أَوْ أَکْثَرَ ، وَأَنَّہُ لَیْسَ مِنْ نَبِیٍّ بُعِثَ إِلَی قَوْمٍ إِلاَّ یُنْذِرُ قَوْمَہُ الدَّجَّالَ ، وَإِنَّہُ قَدْ بُیِّنَ لِی مَا لَمْ یُبَیَّنْ لأَحَدٍ ، وَإِنَّہُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِأَعْوَرَ۔
(٣٨٦١٠) حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں ہزار یا اس سے زیادہ نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور یقیناً کوئی نبی (علیہ السلام) کسی قوم کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا مگر اس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے ڈرایا اور بلاشبہ میرے لیے اس کے بارے میں وہ بات واضح ہوئی ہے جو کسی کے لیے واضح نہیں ہوئی اور وہ (یہ کہ وہ) کانا ہے اور بلاشبہ تمہارا رب کانا نہیں ہے۔