(۳۸۶۲۶) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ، قَالَ: حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ، قَالَ: کَانَ ہِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الأَنْصَارِیُّ یَرَی رِجَالاً یَتَخَطَّوْنَہُ إِلَی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ وَغَیْرِہِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ ، وَقَالَ : وَاللہِ إنَّکُمْ لَتَخْطَوْنَ إِلَی مَنْ لَمْ یَکُنْ أَحْضَرَ لِرَسُولِ اللہِ مِنِّی وَلاَ أَوْعَی لِحَدِیثِہِ مِنِّی ، لَقَدْ سَمِعْت رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَا بَیْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَی أَنْ تَقُومَ السَّاعَۃُ فِتْنَۃٌ أَکْبَرُ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّجَّالِ۔ (احمد ۲۰۔ طبرانی ۲۲)
(٣٨٦٢٦) حضرت حمید بن ہلال سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ہشام بن عامر انصاری کچھ لوگوں کو دیکھتے تھے کہ وہ حضرت عمران بن حصین اور دوسرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کے پاس جاتے تھے وہ غصے میں آگئے اور ارشاد فرمایا اللہ کی قسم تم ان لوگوں کے پاس جاتے ہو جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہ تو مجھ سے زیادہ حاضر باش تھے اور نہ ان کی احادیث کو مجھ سے زیادہ یادر کھنے والے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے حضرت آدم کی پیدائش اور قیامت قائم ہونے تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔