(۳۸۶۳۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ جُمْہَانَ ، عَنْ سَفِینَۃَ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ إِلاَّ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَہُ ، ہُوَ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُسْرَی ، بِعَیْنِہِ الْیُمْنَی ظَفَرَۃٌ غَلِیظَۃٌ ، بَیْنَ عَیْنَیْہِ کَافِرٌ مَعَہُ وَادِیَانِ أَحَدُہُمَا جَنَّۃٌ وَالآخَرُ نَارٌ ، فَجَنَّتُہُ نَارٌ وَنَارُہُ جَنَّۃٌ ، وَمَعَہُ مَلَکَانِ مِنَ الْمَلاَئِکَۃِ یُشْبِہَانِ نَبِیَّیْنِ مِنَ الأَنْبِیَائِ أَحَدُہُمَا عَنْ یَمِینِہِ وَالآخَرُ ، عَنْ شِمَالِہِ ، فَیَقُولُ لأُنَاسٍ : أَلَسْت بِرَبِّکُمْ أَلَسْت أُحْیِی وَأُمِیتُ فَیَقُولُ لَہُ أَحَدُ الْمَلَکَیْنِ : کَذَبْت فَمَا یَسْمَعُہُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلاَّ صَاحِبُہُ ، فَیَقُولُ صَاحِبُہُ : صَدَقْت ، فَیَسْمَعُہُ النَّاسُ فَیَحْسَبُونَ إنَّمَا صَدَّقَ الدَّجَّالَ ، وَذَلِکَ فِتْنَۃٌ ، ثُمَّ یَسِیرُ حَتَّی یَأْتِیَ الْمَدِینَۃَ فَلاَ یُؤْذَنُ لَہُ فِیہَا ، فَیَقُولُ : ہَذِہِ قَرْیَۃُ ذَاکَ الرَّجُلِ ، ثُمَّ یَسِیرُ حَتَّی یَأْتِیَ الشَّامَ فَیَقْتُلُہُ اللَّہُ عِنْدَ عَقَبَۃِ أَفِیقَ۔ (احمد ۲۲۱۔ طبرانی ۶۴۴۵)
(٣٨٦٣٤) حضرت سفینہ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا بلاشبہ کوئی بھی نبی نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا وہ بائیں آنکھ سے کانا ہے اس کی دائیں آنکھ میں ایک موٹا سا ناخنہ ہوگا اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر (لکھا ہوا) ہے اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ان میں ایک جنت اور دوسری آگ اس کی جنت آگ ہے اور اس کی آگ جنت ہے اور اس کے ساتھ ملائکہ میں سے دو فرشتے ہوں گے جو انبیاء میں سے دو نبیوں کے مشابہہ ہوں گے ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا اس کی بائیں جانب ہوگا وہ لوگوں سے کہے گا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں کیا میں زندہ نہیں کرتا اور مارتا نہیں دو فرشتوں میں سے ایک کہے گا تو نے جھوٹ کہا پس لوگوں میں سے کوئی ایک اس کی بات نہیں سنے گا مگر اس کا ساتھی (دوسرا فرشتہ) وہ اپنے ساتھی (فرشتے سے) سے کہے گا تو نے سچ کہا لوگ اس کی بات سن لیں گے اور یہ گمان کریں گے کہ اس نے دجال کی تصدیق کی ہے اور یہ آزمائش ہوگی پھر وہ چلے گا یہاں تک کہ مدینہ منورہ آئے گا اسے اس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی وہ کہے گا یہ تو اس آدمی کی بستی ہے چلے گا یہاں تک کہ شام جائے گا پس اللہ تعالیٰ اسے عقبہ افیق کے پاس ہلاک کردیں گے۔