(۳۸۶۵۲) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : إِنَّ الْمَسَاجِدَ لَتُجَدَّدُ لِخُرُوجِ الْمَسِیحِ وَإِنَّہُ سَیَخْرُجُ فَیَکْسِرُ الصَّلِیبَ ، وَیَقْتُلُ الْخِنْزِیرَ ، وَیُؤْمِنُ بِہِ مَنْ أَدْرَکَہُ ، فَمَنْ أَدْرَکَہُ مِنْکُمْ فَلْیُقْرِئْہُ مِنِّی السَّلاَمَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیَّ ، فَقَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، إنِّی أَرَاک مِنْ أَحْدَثِ الْقَوْمِ ، فَإِنْ أَدْرَکْتہ فَأَقْرِئْہُ مِنِّی السَّلاَمَ۔ (نعیم ۱۶۰۰)
(٣٨٦٥٢) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا مسجدیں حضرت عیسیٰ کے آنے پر نئی ہوں گی وہ عنقریب نکلیں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور ان پر ایمان لائے گا جو ان کو پائے گا جو کوئی تم میں سے ان کو پالے تو ان کو میری جانب سے سلام کہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے (یہ راوی حضرت عقار بن مغیرہ کا قول ہے) اور فرمایا اے بھتیجے ! میں تمہیں لوگوں میں سب سے زیادہ نو عمر سمجھتا ہوں۔ لہٰذا اگر تو ان کو پالے تو ان کو میرا سلام کہنا۔