hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 38662

.

ابن أبي شيبة

38662
Ibn Abi Shaybah
(۳۸۶۶۳) حدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ جَالِسًا وَأَصْحَابُہُ ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُہُمْ ، قَالَ : فَجَائَ حُذَیْفَۃُ ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ الأَصْوَاتُ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، قَالَ : یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، ذَکَرُوا الدَّجَّالَ وَتَخَوَّفْنَاہُ ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : وَاللہِ مَا أُبَالِی أَہُوَ لَقِیت أَمْ ہَذِہِ الْعَنْزَ السَّوْدَائَ ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِعَنْزٍ تَأْکُلُ النَّوَی فِی جَانِبِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللہِ : لِمَ ؟ لِلَّہِ أَبُوک ، قَالَ حُذَیْفَۃُ : لأَنَّا قَوْمٌ مُؤْمِنُونَ وَہُوَ امْرُؤٌ کَافِرٌ ، وَإِنَّ اللَّہَ سَیُعْطِینَا عَلَیْہِ النَّصْرَ وَالظَّفَرَ ، وَایْمُ اللہِ ، لاَ یَخْرُجُ حَتَّی یَکُونَ خُرُوجُہُ أَحَبَّ إِلَی الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ مِنْ بَرْدِ الشَّرَابِ عَلَی الظَّمَأِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : لِمَ ؟ لِلَّہِ أَبُوک ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ : مِنْ شِدَّۃِ الْبَلاَئِ وَجَنَادِعِ الشَّرِّ۔
(٣٨٦٦٣) حضرت شہر بن حوشب سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے ساتھی بیٹھے تھے ان کی آوازیں بلند ہوگئیں راوی نے فرمایا حضرت حذیفہ تشریف لائے اور فرمایا اے ابن ام عبد یہ آوازیں کیسی ہیں انھوں نے فرمایا اے ابو عبداللہ انھوں نے دجال کا تذکرہ چھیڑا اور ہم اس سے ڈر گئے حضرت حذیفہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں پروا نہیں کرتا کہ میں اس سے ملوں یا اس سیاہ بکری کے بچے سے عبدالملک راوی کہتے ہیں اس بکری کے بچے کے بارے میں کہا جو مسجد کی ایک جانب میں کھجور کی گٹھلیاں کھا رہا تھا راوی نے کہا حضرت حذیفہ سے حضرت عبداللہ نے کہا کیوں اللہ کی جانب سے آپ کے باپ کی خوبی حضرت حذیفہ نے فرمایا ہم مومن لوگ ہیں اور وہ کافر آدمی ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے خلاف نصرت اور کامیابی عطا کریں گے اور اللہ کی قسم وہ نہیں نکلے گا یہاں تک کہ اس کا نکلنا مسلمان آدمی کے لیے پیاس میں مشروب کی ٹھنڈک سے زیادہ محبوب ہوگا حضرت عبداللہ نے پوچھا کس وجہ سے اللہ کی جانب سے خوبی ہے آپ کے باپ کے لیے حضرت حذیفہ نے فرمایا مصیبتوں کی شدت اور برائی کی آفات کی وجہ سے۔