(۳۸۶۸۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی جَبَلَۃُ بْنُ سُحَیْمٍ ، عَنْ مُؤْثِرِ بْنِ عَفَازَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا کَانَ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَی وَعِیسَی فَتَذَاکَرُوا السَّاعَۃَ ، فَبَدَؤُوا بِإِبْرَاہِیمَ فَسَأَلُوہُ عَنْہَا ، فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ عِلْمٌ مِنْہَا ، فَسَأَلُوا مُوسَی فَلَمْ یَکُنْ عِنْدَہُ مِنْہَا عِلْمٌ ، فَرَدُّوا الْحَدِیثَ إِلَی عِیسَی ، فَقَالَ : عَہِدَ اللَّہُ إلَیَّ فِیمَا دُونَ وَجْبَتِہَا ، فَأَمَّا وَجْبَتُہَا فَلاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ اللَّہُ فَذَکَرَ مِنْ خُرُوجِ الدَّجَّالِ فَأَہْبِطُ فَأَقْتُلُہُ ، فَیَرْجِعُ النَّاسُ إِلَی بِلاَدِہِمْ فَیَسْتَقْبِلُہُمْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ ، لاَ یَمُرُّونَ بِمَائٍ إِلاَّ شَرِبُوہُ وَلاَ شَیْئٍ إِلاَّ أَفْسَدُوہُ ، فَیَجِرونَ إلَیَّ فَأَدْعُو اللَّہَ فَیُمِیتہُمْ ، فَتجْوَی الأَرْضُ مِنْ رِیحِہِمْ ، فَیَجِرونَ إِلَیَّ ، فَأَدْعُو اللَّہَ ، فَیُرْسِلُ السَّمَائَ بِالْمَائِ فَتَحْمِلُ أَجْسَادَہُمْ فَتَقْذِفُہَا فِی الْبَحْرِ ، ثُمَّ تُنْسَفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الأَرْضُ مَدَّ الأَدِیمِ ، ثُمَّ یُعْہَدُ إلَیَّ إِذَا کَانَ ذَلِکَ ، أَنَّ السَّاعَۃَ مِنَ النَّاسِ کَالْحَامِلِ الْمُتِمّ ، لاَ یَدْرِی أَہْلُہَا مَتَی تَفْجَؤُہُمْ بِوِلاَدَتِہَا، قَالَ الْعَوَّامُ : فَوَجَدْت تَصْدِیقَ ذَلِکَ فِی کِتَابِ اللہِ {حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ}۔ (ابن ماجہ ۲۰۸۱۔ ابویعلی ۵۲۷۳)
(٣٨٦٨٠) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے انھوں نے فرمایا جس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسراء کے لیے لے جایا گیا تو ان کی ملاقات حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ۔ سے ہوئی انھوں نے آپس میں قیامت کا تذکرہ کیا انھوں نے حضرت ابراہیم سے ابتداء کی اور ان سے قیامت کے بارے میں پوچھا ان کے پاس بھی قیامت کے بارے میں علم نہ تھا پھر انھوں نے یہ بات حضرت عیسیٰ کی طرف لوٹا دی انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وقوع سے قریب کی باتیں بتلائیں ہیں اور باقی اس کا وقوع وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا انھوں نے دجال کے نکلنے کا تذکرہ کیا پس میں اتروں گا اور اسے قتل کروں گا پھر لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ جائیں گے پھر یاجوج وماجوج ان کے سامنے آجائیں گے وہ ہر بلند جگہ سے جلدی سے آئیں گے کسی پانی کے پاس نہیں گزریں گے مگر اسے پی جائیں گے اور کسی چیز کے پاس سے نہیں گزریں گے مگر اسے خراب کردیں گے وہ (دوسرے لوگ) میری طرف بھاگ کر آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو موت دے دیں گے زمین ان کی بدبو کی وجہ سے تعفن زدہ ہوجائے گی پس (دوسرے لوگ) وہ میرے پاس آئیں گے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش اتاریں گے وہ ان کے جسموں کو اٹھائے گی اور ان کو سمندر میں پھینک دے گی پھر پہاڑ جڑ سے اکھاڑ دیے جائیں گے اور زمین چمڑے کی طرح ہوجائے گی کہ قیامت لوگوں کے ایسے قریب ہے جیسے کہ وہ حاملہ مدت حمل پوری کرچکی ہو اس کے گھر والے نہیں جانتے کب اچانک اس کے ولادت ہوجائے حضرت عوام نے فرمایا میں نے اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں پائی ہے { حَتَّی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ }۔