(۳۸۶۸۵) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : کُنَّا نَمْشِی مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَرَرْنَا عَلَی صِبْیَانٍ یَلْعَبُونَ ، فَتَفَرَّقُوا حِینَ رَأَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ ابْنُ صَیَّادٍ ، فَکَأَنَّہُ غَاظَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَہُ : مَا لَکَ تَرِبَتْ یَدَاک، أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ؟ فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنْتَ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، فَقَالَ : عُمَرُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، دَعَنْی فَلأَقْتُلْ ہَذَا الْخَبِیثَ ، قَالَ : دَعْہُ فَإِنْ یَکُنِ الَّذِی تَخَوَّف فَلَنْ تَسْتَطِیعَ قَتْلَہُ۔ (مسلم ۲۲۴۰۔ احمد ۳۸۰)
(٣٨٦٨٥) حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہے تھے پس ہم بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے جب ان بچوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو منتشر ہوگئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا گویا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس نے غصہ دلا دیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا تجھے کیا ہے تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اس نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں حضرت عمر نے فرمایا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے چھوڑیں میں اس خبیث کو قتل کردوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اگر یہ وہی ہے جس کا تمہیں خوف ہے تو تم ہرگز اس کو قتل نہیں کرسکتے۔