(۳۸۶۹۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أَسِیدٍ الْغِفَارِیِّ ، قَالَ : اطَّلَعَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَۃٍ لَہُ وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ السَّاعَۃَ ، فَقَالَ : لاَ تَقُومُ السَّاعَۃُ حَتَّی تَکُونَ عَشْرُ آیَاتٍ : الدَّجَّالُ وَالدُّخَانُ وَطُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِہَا وَدَابَّۃُ الأَرْضِ وَیَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَثَلاَثَۃُ خُسُوفٍ خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ وَخَسْفٌ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ أَبْیَنُ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَی الْمَحْشَرِ تَنْزِلُ مَعَہُمْ إِذَا نَزَلُوا ، وَتَقِیلُ مَعَہُمْ إِذَا قَالُوا۔
(٣٨٦٩٧) حضرت حذیفہ بن اسید غفاری سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کمرے سے ہماری طرف جھانکا اس حال میں کہ ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے تھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ دس نشانیاں وقوع پذیر ہوں دجال اور دھواں اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور زمین سے چوپایہ نکلے گا ایک دھنسانا مشرق میں ہوگا دوسرا مغرب میں ہوگا اور تیسرا دھنسانا جزیرۃ العرب میں ہوگا اور آگ نکلے گی مقام عدن میں زمین کی گہرائی سے جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی وہ آگ ان کے ساتھ اترے گی جب وہ کسی مقام پر (پراؤ کے لیے) اتریں گے اور ان کے ساتھ دو پہر کا آرام کرے گی جب وہ دوپہر کو آرام کریں گے۔